ExploreUrdu LeaksUrdu Leaksمُلّا وجہی کی سب رس پر بازگشت کا پروگراممُلّا وجہی کی سب رس پر بازگشت کا پروگرام790d4 shares"سب رس" اردو میں ادبی نثر کا اولین نمونہ ہے۔اس داستان میں انشائیے کے ابتدائی نقوش ملتے ہیں۔مُلّاوجہی نے اس میں اس عہد کی معاشرت کی جھلکیاں بھی پیش کی ہیں۔ "سب رس" میں ملا وجہی نے اپنی انشا پردازی کا جو کمال دکھایا ہے اس کا معترف ایک زمانہ ہے۔اگرچہ اس کا مرکزی خیال"قصہ حسن و دل" از محمد بن یحیٰ فتاحی سے لیا گیا ہے لیکن اس میں بہت کچھ مصنف کا اپنا ہے۔" ان خیالات کا اظہاربازگشت آن لائن ادبی فورم کے سرپرست اور معروف افسانہ نگار پروفیسر بیگ احساس نے "بازگشت" کی جانب سے ملا وجہی کی شہرہ آفاق کتاب "سب رس"کے منتخب اقتباسات کی پیش کش اور گفتگو پر مبنی گوگل میٹ پر منعقدہ پروگرام میں کیا۔جلسے کے مہمانِ خصوصی افسانہ نگارپروفیسر حبیب نثار استاد شعبہئ اردو، حیدرآباد سنٹرل یو نی ورسٹی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مولوی عبدالحق نے انجمن ترقی اردو کے رسالے"اردو"کے ذریعے 1923 میں "سب رس" کو متعارف کرایا تھا۔مولوی صاحب نے اسے داستان قرار دیا جس کی وجہ سے آج تک لوگ اسے داستان سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمثیل ہے۔اس کے مصنف مُلّا وجہی نے تمہید میں ہی اسے تمثیل لکھا ہے۔داستان میں قصہ در قصہ کی تکنیک ہوتی ہے جو"سب رس" میں ناپید ہے۔اس میں صرف دو مافوق الفطری عناصر ہیں۔مولوی عبدالحق نے یہ الزام بھی لگایا کہ وجہی نے اسے محمد بن یحیٰ فتاحی کے فارسی قصے "دستور عشاق" سے لیا لیکن اس کا ذکر نہیں کیا۔ یہاں بھی مولوی صاحب کو تسامح ہوا ہے۔ وجہی نے تمہید میں ہی ذکر کیا ہے کہ یہ قصہ طبع زاد نہیں ہے۔ پروفیسرمحمد نسیم الدین فریس، ڈین اسکول براے السنہ، لسانیات و ہندوستانیات اور صدر شعبہ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی نے کہا کہ اچھی تخلیق نئے امکانات کے در وا کرتی ہے اور اچھی تنقید نئے سوالات اٹھاتی ہے۔"سب رس" میں یہ خوبی ملتی ہے۔ اس کتاب میں ملا وجہی نے جو اسلوب اختیار کیا ہے وہ پہلی مرتبہ دکنی کے توسط سے اردو میں آیا ہے۔وہ ایک بڑا عالم تھا اور اس کی تخلیقات"قطب مشتری" اور "سب رس" نے اسے حیات جاودانی عطا کی ہے۔پروفیسر غیاث الرحمٰن سید، استاد اے جے کے ماس کمیو نکیشن اینڈ ریسرچ سنٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ایسے طلبا تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیاجو کلاسیکی تحریریں صحیح تلفظ اور لب و لہجے کے ساتھ پڑھ سکیں۔ انھوں نے اکابرین کی ہر بات کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرنے کی بجاے طلبا کو تحقیقی ذہن سے کام لینے اور نتائج تک پہنچنے کی ترغیب بھی دی۔ انھوں نے بازگشت کے منتظمین کو اس عمدہ پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد دی اور ڈاکٹر گل رعنا کو بہترین پیش کش اور ڈاکٹر حمیرہ سعید کو مسحور کن نظامت کے لیے بھر پور ستائشی کلمات سے نوازا۔ ڈاکٹرگل رعنا، استاد شعبہئ اردو، تلنگانہ یونی ورسٹی، نظام آبادنے نہایت دلکش دکنی لب و لہجے میں "سب رس" کے منتخب اقتباسات پیش کیے۔ڈاکٹر ریشماں پروین استاد کھن کھن جی کالج، لکھنئو نے ان کی ادائیگی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہورہاتھا جیسے ہم وجہی کے عہد میں پہنچ گئے ہیں۔ "سب رس"کی تلخیص اس قدر عمدگی سے کی گئی کہ داستان کا خاصا حصہ اس میں آگیا۔ ڈاکٹر محمد قمر سلیم استاد انجمن اسلام اکبر پیر بھائی کالج آف ٹیچر ایجوکیشن، نوی ممبئی نے کہا کہ "بازگشت کے ذریعے بہت سی نئی نئی باتیں معلوم ہورہی ہیں اور کلاسیکی تحریریں پڑھنے اور سننے کا موقع مل رہا ہے۔ ابتدا میں پروگرام کے کنوینر ڈاکٹرفیروز عالم،استاد شعبہئ اردو، مانو نے حاضرین کا خیر مقدم کیا۔انتظامیہ کمیٹی کی رکن ڈاکٹر حمیرہ سعید پرنسپل، گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمن، سنگا ریڈی نے پروگرام کی دلکش نظامت کی۔انھوں نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔پروگرام کے آخر میں داکٹر گل رعنا نے اظہارِ تشکر کیا۔، اسسٹنٹ پروفیسر، عابدہ انعامدار کالج، پونے نے نظیر اکبرآبادی کی نظم کا پی پی ٹی پیش کیا اور پروگرام میں تکنیکی تعاون پیش کیا۔ ممتاز افسانہ نگاراور بازگشت آن لائن ادبی فورم کے سرپرست پروفیسربیگ احساس بھی اس موقعے پر موجود تھے۔اس اجلاس میں ملک و بیرونِ ملک کے شائقین ادب، اساتذہ اور طلبا و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان میں پروفیسر صدیقی محمد محمود رجسٹرار، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی،حیدرآباد، پروفیسر اشتیاق احمد، جے این یو، محترمہ عطیہ رئیس(دہلی) ڈاکٹر حلیمہ فردوس (بنگلور)جناب ملکیت سنگھ مچھانا(بٹھنڈہ، پنجاب)ڈاکٹر مشرف علی بنارس ہندو یونی ورسٹی، ڈاکٹر ہادی سرمدی (داؤد نگر، بہار)ڈاکٹر جاوید رحمانی(سلچر، آسام)جناب غوث ارسلان، محترمہ فرح تزئین (سعودی عرب)ڈاکٹر عبدالحق (امریکہ)ڈاکٹر تلمیذ فاطمہ نقوی (بھوپال)ڈاکٹر ریشماں پروین(لکھنئو) محترمہ عظمیٰ تسنیم، محترمہ مہ جبیں شیخ،ڈاکٹر عظمت انور دلال(پونے) محترمہ صائمہ بیگ، محترمہ افشاں جبیں فرشوری، ڈاکٹر بی بی رضا خاتون،ڈاکٹر محمد اشفاق چاند،ڈاکٹر ناظم علی،ڈاکٹر رفیعہ بیگم، ڈاکٹر عائشہ بیگم،جناب فرید احمد، ڈاکٹرحنا کوثر (حیدرآباد) ڈاکٹر کوثر پروین، جناب اقبال احمد(گلبرگہ)جناب حنیف سید (آگرہ)خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔DailyhuntDisclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by Dailyhunt. Publisher: Urdu Leaks1+1Qaumi AwazQaumi Awazشاہ رخ خان کی 'پٹھان' پوری دنیا میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندی فلم بن گئیشاہ رخ خان کی 'پٹھان' پوری دنیا میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندی فلم بن گئی2hr00نئی دہلی: یش راج فلمز (وائی آر ایف) کی سدھارتھ آنند کی ہدایت کاری میں بنی "پٹھان" باکس آفس پر ہر گزرتے دن کے ساتھ تاریخ رقم کر رہی ہے۔ یہ فلم ملک اور بیرون ملک باکس آفس پر شاندار کارکردگی دکھا رہی ہے اور اب صرف 10 دنوں میں دنیا کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندی فلم بن گئی ہے۔ فلم نے دنیا بھر میں باکس آفس کلیکشن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریلیز کے 10 دنوں میں دنیا بھر میں 729 کروڑ سے زیادہ کی کمائی کی ہے۔مزید پڑھیںسیاستسیاستارمیلا ماتونڈکر:فلمی دنیا سے سیاست تکارمیلا ماتونڈکر:فلمی دنیا سے سیاست تک8hr00ممبئی: بالی وڈ کی مشہور اداکارہ اور سیاست دان اُرمِیلا ماتونڈکر نے ہندی فلموں کے علاوہ، تیلگو، تمل، ملیالم اور مراٹھی سنیما میں بھی اداکاری کے جوہر دکھا کر اپنی ایک مخصوص شناخت قائم کی۔ ان کی پیدائش 4 فروری 1974ء کو ممبئی میں ہوئی۔ ان کے والد شریکانت ماتونڈکر اور والدہ سنیتا ماتوندکر ہیں ۔ انہوں نے محض تین سال کی عمر میں 1977 میں فلم 'کرم' سے چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر ڈیبیو کیا تھا۔ 983 میں ریلیز ہوئی فلم معصوم سے انہیں ایک پہچان ملی۔ اس میں ان پر فلمایا گیا گانا 'لکڑی کی کاٹھی، کاٹھی پے گھوڑا' آج بھی سنا جاتا ہے ۔ بالی ووڈ میں “چھما چھما “اور “رنگیلا “گرل کے نام سے مشہور ارمیلا ماتونڈکر کی بطور اداکارہ پہلی ہندی فلم نرسمہا 1991 میں ریلیز ہوئی تھی۔ انہوں نے 2019 کے لوک سبھا الیکشن سے قبل سیاست میں قدم رکھا اور کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر قسمت آزمائی کی، لیکن انہیں شکست کامنہ دیکھنا پڑا۔ بعد ازاں انہوں نے پارٹی سے استعفیٰ دے کر شیو سینا کا دامن تھام لیا۔ آج کل وہ فلموں سے دور ہیں۔مزید پڑھیںNo Internet connection
"سب رس" اردو میں ادبی نثر کا اولین نمونہ ہے۔اس داستان میں انشائیے کے ابتدائی نقوش ملتے ہیں۔مُلّاوجہی نے اس میں اس عہد کی معاشرت کی جھلکیاں بھی پیش کی ہیں۔ "سب رس" میں ملا وجہی نے اپنی انشا پردازی کا جو کمال دکھایا ہے اس کا معترف ایک زمانہ ہے۔اگرچہ اس کا مرکزی خیال"قصہ حسن و دل" از محمد بن یحیٰ فتاحی سے لیا گیا ہے لیکن اس میں بہت کچھ مصنف کا اپنا ہے۔" ان خیالات کا اظہاربازگشت آن لائن ادبی فورم کے سرپرست اور معروف افسانہ نگار پروفیسر بیگ احساس نے "بازگشت" کی جانب سے ملا وجہی کی شہرہ آفاق کتاب "سب رس"کے منتخب اقتباسات کی پیش کش اور گفتگو پر مبنی گوگل میٹ پر منعقدہ پروگرام میں کیا۔جلسے کے مہمانِ خصوصی افسانہ نگارپروفیسر حبیب نثار استاد شعبہئ اردو، حیدرآباد سنٹرل یو نی ورسٹی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مولوی عبدالحق نے انجمن ترقی اردو کے رسالے"اردو"کے ذریعے 1923 میں "سب رس" کو متعارف کرایا تھا۔مولوی صاحب نے اسے داستان قرار دیا جس کی وجہ سے آج تک لوگ اسے داستان سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمثیل ہے۔اس کے مصنف مُلّا وجہی نے تمہید میں ہی اسے تمثیل لکھا ہے۔داستان میں قصہ در قصہ کی تکنیک ہوتی ہے جو"سب رس" میں ناپید ہے۔اس میں صرف دو مافوق الفطری عناصر ہیں۔مولوی عبدالحق نے یہ الزام بھی لگایا کہ وجہی نے اسے محمد بن یحیٰ فتاحی کے فارسی قصے "دستور عشاق" سے لیا لیکن اس کا ذکر نہیں کیا۔ یہاں بھی مولوی صاحب کو تسامح ہوا ہے۔ وجہی نے تمہید میں ہی ذکر کیا ہے کہ یہ قصہ طبع زاد نہیں ہے۔ پروفیسرمحمد نسیم الدین فریس، ڈین اسکول براے السنہ، لسانیات و ہندوستانیات اور صدر شعبہ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی نے کہا کہ اچھی تخلیق نئے امکانات کے در وا کرتی ہے اور اچھی تنقید نئے سوالات اٹھاتی ہے۔"سب رس" میں یہ خوبی ملتی ہے۔ اس کتاب میں ملا وجہی نے جو اسلوب اختیار کیا ہے وہ پہلی مرتبہ دکنی کے توسط سے اردو میں آیا ہے۔وہ ایک بڑا عالم تھا اور اس کی تخلیقات"قطب مشتری" اور "سب رس" نے اسے حیات جاودانی عطا کی ہے۔پروفیسر غیاث الرحمٰن سید، استاد اے جے کے ماس کمیو نکیشن اینڈ ریسرچ سنٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ایسے طلبا تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیاجو کلاسیکی تحریریں صحیح تلفظ اور لب و لہجے کے ساتھ پڑھ سکیں۔ انھوں نے اکابرین کی ہر بات کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرنے کی بجاے طلبا کو تحقیقی ذہن سے کام لینے اور نتائج تک پہنچنے کی ترغیب بھی دی۔ انھوں نے بازگشت کے منتظمین کو اس عمدہ پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد دی اور ڈاکٹر گل رعنا کو بہترین پیش کش اور ڈاکٹر حمیرہ سعید کو مسحور کن نظامت کے لیے بھر پور ستائشی کلمات سے نوازا۔ ڈاکٹرگل رعنا، استاد شعبہئ اردو، تلنگانہ یونی ورسٹی، نظام آبادنے نہایت دلکش دکنی لب و لہجے میں "سب رس" کے منتخب اقتباسات پیش کیے۔ڈاکٹر ریشماں پروین استاد کھن کھن جی کالج، لکھنئو نے ان کی ادائیگی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہورہاتھا جیسے ہم وجہی کے عہد میں پہنچ گئے ہیں۔ "سب رس"کی تلخیص اس قدر عمدگی سے کی گئی کہ داستان کا خاصا حصہ اس میں آگیا۔ ڈاکٹر محمد قمر سلیم استاد انجمن اسلام اکبر پیر بھائی کالج آف ٹیچر ایجوکیشن، نوی ممبئی نے کہا کہ "بازگشت کے ذریعے بہت سی نئی نئی باتیں معلوم ہورہی ہیں اور کلاسیکی تحریریں پڑھنے اور سننے کا موقع مل رہا ہے۔ ابتدا میں پروگرام کے کنوینر ڈاکٹرفیروز عالم،استاد شعبہئ اردو، مانو نے حاضرین کا خیر مقدم کیا۔انتظامیہ کمیٹی کی رکن ڈاکٹر حمیرہ سعید پرنسپل، گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمن، سنگا ریڈی نے پروگرام کی دلکش نظامت کی۔انھوں نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔پروگرام کے آخر میں داکٹر گل رعنا نے اظہارِ تشکر کیا۔، اسسٹنٹ پروفیسر، عابدہ انعامدار کالج، پونے نے نظیر اکبرآبادی کی نظم کا پی پی ٹی پیش کیا اور پروگرام میں تکنیکی تعاون پیش کیا۔ ممتاز افسانہ نگاراور بازگشت آن لائن ادبی فورم کے سرپرست پروفیسربیگ احساس بھی اس موقعے پر موجود تھے۔اس اجلاس میں ملک و بیرونِ ملک کے شائقین ادب، اساتذہ اور طلبا و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان میں پروفیسر صدیقی محمد محمود رجسٹرار، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی،حیدرآباد، پروفیسر اشتیاق احمد، جے این یو، محترمہ عطیہ رئیس(دہلی) ڈاکٹر حلیمہ فردوس (بنگلور)جناب ملکیت سنگھ مچھانا(بٹھنڈہ، پنجاب)ڈاکٹر مشرف علی بنارس ہندو یونی ورسٹی، ڈاکٹر ہادی سرمدی (داؤد نگر، بہار)ڈاکٹر جاوید رحمانی(سلچر، آسام)جناب غوث ارسلان، محترمہ فرح تزئین (سعودی عرب)ڈاکٹر عبدالحق (امریکہ)ڈاکٹر تلمیذ فاطمہ نقوی (بھوپال)ڈاکٹر ریشماں پروین(لکھنئو) محترمہ عظمیٰ تسنیم، محترمہ مہ جبیں شیخ،ڈاکٹر عظمت انور دلال(پونے) محترمہ صائمہ بیگ، محترمہ افشاں جبیں فرشوری، ڈاکٹر بی بی رضا خاتون،ڈاکٹر محمد اشفاق چاند،ڈاکٹر ناظم علی،ڈاکٹر رفیعہ بیگم، ڈاکٹر عائشہ بیگم،جناب فرید احمد، ڈاکٹرحنا کوثر (حیدرآباد) ڈاکٹر کوثر پروین، جناب اقبال احمد(گلبرگہ)جناب حنیف سید (آگرہ)خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔
نئی دہلی: یش راج فلمز (وائی آر ایف) کی سدھارتھ آنند کی ہدایت کاری میں بنی "پٹھان" باکس آفس پر ہر گزرتے دن کے ساتھ تاریخ رقم کر رہی ہے۔ یہ فلم ملک اور بیرون ملک باکس آفس پر شاندار کارکردگی دکھا رہی ہے اور اب صرف 10 دنوں میں دنیا کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندی فلم بن گئی ہے۔ فلم نے دنیا بھر میں باکس آفس کلیکشن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریلیز کے 10 دنوں میں دنیا بھر میں 729 کروڑ سے زیادہ کی کمائی کی ہے۔
ممبئی: بالی وڈ کی مشہور اداکارہ اور سیاست دان اُرمِیلا ماتونڈکر نے ہندی فلموں کے علاوہ، تیلگو، تمل، ملیالم اور مراٹھی سنیما میں بھی اداکاری کے جوہر دکھا کر اپنی ایک مخصوص شناخت قائم کی۔ ان کی پیدائش 4 فروری 1974ء کو ممبئی میں ہوئی۔ ان کے والد شریکانت ماتونڈکر اور والدہ سنیتا ماتوندکر ہیں ۔ انہوں نے محض تین سال کی عمر میں 1977 میں فلم 'کرم' سے چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر ڈیبیو کیا تھا۔ 983 میں ریلیز ہوئی فلم معصوم سے انہیں ایک پہچان ملی۔ اس میں ان پر فلمایا گیا گانا 'لکڑی کی کاٹھی، کاٹھی پے گھوڑا' آج بھی سنا جاتا ہے ۔ بالی ووڈ میں “چھما چھما “اور “رنگیلا “گرل کے نام سے مشہور ارمیلا ماتونڈکر کی بطور اداکارہ پہلی ہندی فلم نرسمہا 1991 میں ریلیز ہوئی تھی۔ انہوں نے 2019 کے لوک سبھا الیکشن سے قبل سیاست میں قدم رکھا اور کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر قسمت آزمائی کی، لیکن انہیں شکست کامنہ دیکھنا پڑا۔ بعد ازاں انہوں نے پارٹی سے استعفیٰ دے کر شیو سینا کا دامن تھام لیا۔ آج کل وہ فلموں سے دور ہیں۔
No Internet connection Explore Urdu Leaks Urdu Leaks مُلّا وجہی کی سب رس پر بازگشت کا پروگرام مُلّا وجہی کی سب رس پر بازگشت کا پروگرام 790d4 shares "سب رس" اردو میں ادبی نثر کا اولین نمونہ ہے۔اس داستان میں انشائیے کے ابتدائی نقوش ملتے ہیں۔مُلّاوجہی نے اس میں اس عہد کی معاشرت کی جھلکیاں بھی پیش کی ہیں۔ "سب رس" میں ملا وجہی نے اپنی انشا پردازی کا جو کمال دکھایا ہے اس کا معترف ایک زمانہ ہے۔اگرچہ اس کا مرکزی خیال"قصہ حسن و دل" از محمد بن یحیٰ فتاحی سے لیا گیا ہے لیکن اس میں بہت کچھ مصنف کا اپنا ہے۔" ان خیالات کا اظہاربازگشت آن لائن ادبی فورم کے سرپرست اور معروف افسانہ نگار پروفیسر بیگ احساس نے "بازگشت" کی جانب سے ملا وجہی کی شہرہ آفاق کتاب "سب رس"کے منتخب اقتباسات کی پیش کش اور گفتگو پر مبنی گوگل میٹ پر منعقدہ پروگرام میں کیا۔جلسے کے مہمانِ خصوصی افسانہ نگارپروفیسر حبیب نثار استاد شعبہئ اردو، حیدرآباد سنٹرل یو نی ورسٹی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مولوی عبدالحق نے انجمن ترقی اردو کے رسالے"اردو"کے ذریعے 1923 میں "سب رس" کو متعارف کرایا تھا۔مولوی صاحب نے اسے داستان قرار دیا جس کی وجہ سے آج تک لوگ اسے داستان سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمثیل ہے۔اس کے مصنف مُلّا وجہی نے تمہید میں ہی اسے تمثیل لکھا ہے۔داستان میں قصہ در قصہ کی تکنیک ہوتی ہے جو"سب رس" میں ناپید ہے۔اس میں صرف دو مافوق الفطری عناصر ہیں۔مولوی عبدالحق نے یہ الزام بھی لگایا کہ وجہی نے اسے محمد بن یحیٰ فتاحی کے فارسی قصے "دستور عشاق" سے لیا لیکن اس کا ذکر نہیں کیا۔ یہاں بھی مولوی صاحب کو تسامح ہوا ہے۔ وجہی نے تمہید میں ہی ذکر کیا ہے کہ یہ قصہ طبع زاد نہیں ہے۔ پروفیسرمحمد نسیم الدین فریس، ڈین اسکول براے السنہ، لسانیات و ہندوستانیات اور صدر شعبہ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی نے کہا کہ اچھی تخلیق نئے امکانات کے در وا کرتی ہے اور اچھی تنقید نئے سوالات اٹھاتی ہے۔"سب رس" میں یہ خوبی ملتی ہے۔ اس کتاب میں ملا وجہی نے جو اسلوب اختیار کیا ہے وہ پہلی مرتبہ دکنی کے توسط سے اردو میں آیا ہے۔وہ ایک بڑا عالم تھا اور اس کی تخلیقات"قطب مشتری" اور "سب رس" نے اسے حیات جاودانی عطا کی ہے۔پروفیسر غیاث الرحمٰن سید، استاد اے جے کے ماس کمیو نکیشن اینڈ ریسرچ سنٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ایسے طلبا تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیاجو کلاسیکی تحریریں صحیح تلفظ اور لب و لہجے کے ساتھ پڑھ سکیں۔ انھوں نے اکابرین کی ہر بات کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرنے کی بجاے طلبا کو تحقیقی ذہن سے کام لینے اور نتائج تک پہنچنے کی ترغیب بھی دی۔ انھوں نے بازگشت کے منتظمین کو اس عمدہ پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد دی اور ڈاکٹر گل رعنا کو بہترین پیش کش اور ڈاکٹر حمیرہ سعید کو مسحور کن نظامت کے لیے بھر پور ستائشی کلمات سے نوازا۔ ڈاکٹرگل رعنا، استاد شعبہئ اردو، تلنگانہ یونی ورسٹی، نظام آبادنے نہایت دلکش دکنی لب و لہجے میں "سب رس" کے منتخب اقتباسات پیش کیے۔ڈاکٹر ریشماں پروین استاد کھن کھن جی کالج، لکھنئو نے ان کی ادائیگی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہورہاتھا جیسے ہم وجہی کے عہد میں پہنچ گئے ہیں۔ "سب رس"کی تلخیص اس قدر عمدگی سے کی گئی کہ داستان کا خاصا حصہ اس میں آگیا۔ ڈاکٹر محمد قمر سلیم استاد انجمن اسلام اکبر پیر بھائی کالج آف ٹیچر ایجوکیشن، نوی ممبئی نے کہا کہ "بازگشت کے ذریعے بہت سی نئی نئی باتیں معلوم ہورہی ہیں اور کلاسیکی تحریریں پڑھنے اور سننے کا موقع مل رہا ہے۔ ابتدا میں پروگرام کے کنوینر ڈاکٹرفیروز عالم،استاد شعبہئ اردو، مانو نے حاضرین کا خیر مقدم کیا۔انتظامیہ کمیٹی کی رکن ڈاکٹر حمیرہ سعید پرنسپل، گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمن، سنگا ریڈی نے پروگرام کی دلکش نظامت کی۔انھوں نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔پروگرام کے آخر میں داکٹر گل رعنا نے اظہارِ تشکر کیا۔، اسسٹنٹ پروفیسر، عابدہ انعامدار کالج، پونے نے نظیر اکبرآبادی کی نظم کا پی پی ٹی پیش کیا اور پروگرام میں تکنیکی تعاون پیش کیا۔ ممتاز افسانہ نگاراور بازگشت آن لائن ادبی فورم کے سرپرست پروفیسربیگ احساس بھی اس موقعے پر موجود تھے۔اس اجلاس میں ملک و بیرونِ ملک کے شائقین ادب، اساتذہ اور طلبا و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان میں پروفیسر صدیقی محمد محمود رجسٹرار، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی،حیدرآباد، پروفیسر اشتیاق احمد، جے این یو، محترمہ عطیہ رئیس(دہلی) ڈاکٹر حلیمہ فردوس (بنگلور)جناب ملکیت سنگھ مچھانا(بٹھنڈہ، پنجاب)ڈاکٹر مشرف علی بنارس ہندو یونی ورسٹی، ڈاکٹر ہادی سرمدی (داؤد نگر، بہار)ڈاکٹر جاوید رحمانی(سلچر، آسام)جناب غوث ارسلان، محترمہ فرح تزئین (سعودی عرب)ڈاکٹر عبدالحق (امریکہ)ڈاکٹر تلمیذ فاطمہ نقوی (بھوپال)ڈاکٹر ریشماں پروین(لکھنئو) محترمہ عظمیٰ تسنیم، محترمہ مہ جبیں شیخ،ڈاکٹر عظمت انور دلال(پونے) محترمہ صائمہ بیگ، محترمہ افشاں جبیں فرشوری، ڈاکٹر بی بی رضا خاتون،ڈاکٹر محمد اشفاق چاند،ڈاکٹر ناظم علی،ڈاکٹر رفیعہ بیگم، ڈاکٹر عائشہ بیگم،جناب فرید احمد، ڈاکٹرحنا کوثر (حیدرآباد) ڈاکٹر کوثر پروین، جناب اقبال احمد(گلبرگہ)جناب حنیف سید (آگرہ)خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ Dailyhunt Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by Dailyhunt. Publisher: Urdu Leaks 1 +1 Qaumi Awaz Qaumi Awaz شاہ رخ خان کی 'پٹھان' پوری دنیا میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندی فلم بن گئی شاہ رخ خان کی 'پٹھان' پوری دنیا میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندی فلم بن گئی 2hr00 نئی دہلی: یش راج فلمز (وائی آر ایف) کی سدھارتھ آنند کی ہدایت کاری میں بنی "پٹھان" باکس آفس پر ہر گزرتے دن کے ساتھ تاریخ رقم کر رہی ہے۔ یہ فلم ملک اور بیرون ملک باکس آفس پر شاندار کارکردگی دکھا رہی ہے اور اب صرف 10 دنوں میں دنیا کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندی فلم بن گئی ہے۔ فلم نے دنیا بھر میں باکس آفس کلیکشن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریلیز کے 10 دنوں میں دنیا بھر میں 729 کروڑ سے زیادہ کی کمائی کی ہے۔ مزید پڑھیں سیاست سیاست ارمیلا ماتونڈکر:فلمی دنیا سے سیاست تک ارمیلا ماتونڈکر:فلمی دنیا سے سیاست تک 8hr00 ممبئی: بالی وڈ کی مشہور اداکارہ اور سیاست دان اُرمِیلا ماتونڈکر نے ہندی فلموں کے علاوہ، تیلگو، تمل، ملیالم اور مراٹھی سنیما میں بھی اداکاری کے جوہر دکھا کر اپنی ایک مخصوص شناخت قائم کی۔ ان کی پیدائش 4 فروری 1974ء کو ممبئی میں ہوئی۔ ان کے والد شریکانت ماتونڈکر اور والدہ سنیتا ماتوندکر ہیں ۔ انہوں نے محض تین سال کی عمر میں 1977 میں فلم 'کرم' سے چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر ڈیبیو کیا تھا۔ 983 میں ریلیز ہوئی فلم معصوم سے انہیں ایک پہچان ملی۔ اس میں ان پر فلمایا گیا گانا 'لکڑی کی کاٹھی، کاٹھی پے گھوڑا' آج بھی سنا جاتا ہے ۔ بالی ووڈ میں “چھما چھما “اور “رنگیلا “گرل کے نام سے مشہور ارمیلا ماتونڈکر کی بطور اداکارہ پہلی ہندی فلم نرسمہا 1991 میں ریلیز ہوئی تھی۔ انہوں نے 2019 کے لوک سبھا الیکشن سے قبل سیاست میں قدم رکھا اور کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر قسمت آزمائی کی، لیکن انہیں شکست کامنہ دیکھنا پڑا۔ بعد ازاں انہوں نے پارٹی سے استعفیٰ دے کر شیو سینا کا دامن تھام لیا۔ آج کل وہ فلموں سے دور ہیں۔ مزید پڑھیں No Internet connection |






Comments
Post a Comment